Ana Peh Waar Ke Phenky Hein Aise Waise Buhat Mera Ghuroor Salamat Tumhare Jaise Buhat
انا پہ وار کے پھینکے ہیں ایسے ویسے بہت
مرا غرور سلامت تمہارے جیسے بہت
Ana Peh Waar Ke Phenky Hein Aise Waise Buhat
Mera Ghuroor Salamat Tumhare Jaise Buhat
ابھی ابھی اسے ہجرت کا حکم آیا ہے
وہ جس کو عشق تھا گھر کی ہر ایک شے سے بہت
یہی تو قحطِ بصارت میں کام آئیں گے
خرید لائی ہوں میں خواب جیسے تیسے بہت
تمام شہر پہ طاری تھا شاعری کا نشہ
کشید کی گئی لذت سخن کی مے سے بہت
غریبِ شہر کے فاقوں کو یہ دلاسہ دو
امیرِ شہر کی الماریوں میں پیسے بہت
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment