Hawa Ka Sard Jhonka Jab Mujhe Chhu Kar Guzarta Hai
ہوا کا سرد جھونکا جب
مجھے چُھو کر گزرتا ہے
Hawa Ka Sard Jhonka Jab
Mujhe Chhu Kar Guzarta Hai
مری سوچوں کے درپن میں
دسمبرکی چٹکتی دھوپ
اک چہرہ بناتی ہے
ٹھٹھرتے سرد موسم میں
صبا جب گنگناتی ہے
ہوا سیٹی بجاتی ہے
رگوں میں سرسراتی ہے
تو یوں لگتا ہے
کا لج کی کسی کینٹین میں بیٹھی
وہ پھر سے مسکرائی ہو
مری کافی کی پیالی سے
دھویں کے گرم بادل نے
کوئی صورت بنائی ہو!
کوئی خوش بو کی صورت بات
نہاں تھی جو میرے دل میں
مری آنکھوں سے پڑھ کر وہ
ذرا سا مسکرائی ہو
بس اک وہ خواب سا لمحہ
ہے رخت زند گانی جو
دسمبر کی خنک راتوں میں
اکثر یاد آتا ہے
نہیں بھولا جسے اب تک
وہ منظر یاد آتا ہے
دسمبر یاد آتا ہے

Comments
Post a Comment