Ishq Mein Hasil Inkar Se Dar Jate Hein Hum Gunahngar Hein Iqrar Se Dar Jate Hein
عشق میں حاصل انکار سے ڈر جاتے ہیں
ہم گنہگار ہیں اقرار سے ڈر جاتے ہیں
Ishq Mein Hasil Inkar Se Dar Jate Hein
Hum Gunahngar Hein Iqrar Se Dar Jate Hein
موت برحق ہے جب آ جائے ہمیں کیا لیکن
زندگی ہم تری رفتار سے ڈر جاتے ہیں
اپنی وحشت کا سبب ہم کو ہے معلوم مگر
کیا سبب ہے در و دیوار سے ڈر جاتے ہیں
نغمۂ زیست پہ جن جن کے تھرکتے ہیں قدم
دفعتاً زیست کے آثار سے ڈر جاتے ہیں
کچھ طبیعت کی روانی سے بھی خوف آتا ہے
کچھ مضامین کی یلغار سے ڈر جاتے ہیں
دن میں پھرتے ہیں لیے کاسۂ خالی احمرؔ
شام ہوتے ہی جو گھر بار سے ڈر جاتے ہیں
احمرؔ ندیم
Ahmar Nadeem

Comments
Post a Comment