Kisi Sarsabz Wadi Mein Kisi Khush Rang Jugno Ko
دسمبر اور یادیں
DECEMBER AUR YAADEIN
کسی سر سبز وادی میں
کسی خوش رنگ جگنو کو
Kisi Sarsabz Wadi Mein
Kisi Khush Rang Jugno Ko
کبھی اُڑتے ہوئے دیکھوں
“مجھے تم یاد آتے ہو“
خوابوں میں، سوالوں میں
محبّت کے حوالوں میں
تمہیں آواز دیتی ہوں
تمہیں واپس بلاتی ہوں
یوں خود کو آزماتی ہوں
کوئی جب نظم لکھتی ہوں
اُسے عنوان دیتی ہوں
“مجھے تم یاد آتے ہو“
کبھی باہر نکلتی ہوں
کسی رستے پہ چلتی ہوں
کہیں دو دوستوں کو کھلکھلاتے،
مسکراتے دیکھہ لیتی ہوں
کسی کو گنگناتے دیکھہ لیتی ہوں
تو پھر
میری رفاقت کے اوّل و آخر
“مجھے تم یاد آتے ہو“
دسمبر میں جو موسم کا مزہ لینے کو جی چاہے
کوئی پیاری سہیلی فون پر بولے
بڑا ہی مست موسم ہے
چلو باہر نکلتے ہیں
چلو بوندوں سے کھیلیں گے
چلو بارش میں بھیگیں گے
تو اُس لمحے
تمہاری یاد ہولے سے
کوئی سرگوشی کرتی ہے
یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں
دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں
میں آنکھوں کو جھکاتی ہوں
بظاہر مسکراتی ہوں
فقط اتنا ہی کہتی ہوں
مجھے کتنا ستاتے ہو
مجھے تم یاد آتے ہو

Comments
Post a Comment