Azeeyaton Se Nikalny Ka Mashwara Daiti Main Uski Thi Tou Nahi Phir Bhi Housla Daiti
اذیتوں سے نکلنے کا مشورہ دیتی
میں اس کی تھی تو نہیں پھر بھی حوصلہ دیتی
Azeeyaton Se Nikalny Ka Mashwara Daiti
Main Uski Thi Tou Nahi Phir Bhi Housla Daiti
کسی عذاب سے کم تو نہیں ہے خوش رہنا
دعا کے نام پہ کیوں اس کو بد دعا دیتی
چھپا بھی لیتی میرے بھید کو اگر بالفرض
ہوا کا کیا ہے کوئی اور گل کھلا دیتی
بجا کہ سہل نہ تھا اس کا ہمسفر ہونا
کم از کم اس کو پلٹنے کا راستہ دیتی
جو مجھ سے عشق کے قصے سناتا پھرتا تھا
کہیں وہ ملتا تو میں اس کو آئینہ دیتی
میرے خدا، کوئی مصرف تو ہوتا اشکوں کا
فصیل شہر کی تحریر ہی مٹا دیتی
خدا گواہ کہ سر سے جھٹک کے دیکھ لیا
نہیں تھا بس میں وگرنہ اسے بھلا دیتی
میں اس کی خاص عنایت سے بچ گئی ہوں قمرؔ
وگرنہ خلق خدا تو مجھے مٹا دیتی
ریحانہ قمر
Rehana Qamar

Comments
Post a Comment