Bada Ihsan Hum Farma Rahe Hein Keh Unke Khat Unhein Laota Rahe Hein
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
کہ اُن کے خط اُنہیں لوٹا رہے ہیں
Bada Ihsan Hum Farma Rahe Hein
Keh Unke Khat Unhein Laota Rahe Hein
نہیں ترکِ مُحبّت پر وُہ راضی
قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں
یقیں کا راستہ طے کرنے والے
بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں
یہ مت بُھولو کہ یہ لمحات ہم کو
بچھڑنے کے لیے مِلوا رہے ہیں
تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے
ابھی کُچھ لوگ دھوکہ کھا رہے ہیں
تمہیں چاہیں گے جب چِھن جاؤ گی تم
ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں
کسی صُورت اُنہیں نفرت ہو ہم سے
ہم اپنے عیب خُود گِنوا رہے ہیں
وُہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں
مِری آنکھوں میں آنسُو آ رہے ہیں
دلیلوں سے اُسے قائل کیا تھا
دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں
تِری بانہوں سے ہجرت کرنے والے
نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں
یہ جذبۂ عشق ہے‘ یا جذبۂ رحم
تِرے آنسُومُجھے رُلوا رہے ہیں
عجب کُچھ ربط ہے تم سے کہ تم کو
ہم اپنا جان کر ٹُھکرا رہے ہیں
وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی
مِری جاں بس کوئی دِن جا رہے ہیں
جونؔ ایلیا
Joun Elia

Comments
Post a Comment