Chehra Mahtaab Ho Ya Shokh Ada Kuch Bhi Nahi Gar Na Ho Piyar Tou Phir Us Mein Maza Kuch Bhi Nahi
چہرہ مہتاب ہو یا شوخ ادا کچھ بھی نہیں
گر نہ ہو پیار تو پھر اس میں مزہ کچھ بھی نہیں
Chehra Mahtaab Ho Ya Shokh Ada Kuch Bhi Nahi
Gar Na Ho Piyar Tou Phir Us Mein Maza Kuch Bhi Nahi
آپ چاہیں تو مرا دل بھی چرا سکتے ہیں
لیکن اس دل میں بغاوت کے سوا کچھ بھی نہیں
یہ حسیں عورتیں پھولوں کی طرح لگتی ہیں
تم سمجھتے ہو کہ دنیا میں بچا کچھ بھی نہیں
کب سے بیٹھا تھا میں اس در پہ دعائیں لے کر
ہوکے مایوس میں لوٹ آیا ملا کچھ بھی نہیں
سب نے اندازے لگائے کہ مرا چکر ہے
سچ تو کچھ اور ہے پر میں نے کہا کچھ بھی نہیں
بجھ رہا ہوں میں، مجھے دیکھ کے پہچان تو لو
پہلے جیسا مری آنکھوں میں رہا کچھ بھی نہیں
ہونٹ سے ہونٹ ملے، دل سے نہ مل پایا دل
یعنی اس دنیا میں اب پیار وفا کچھ بھی نہیں
زیب معلوم نہیں کیسی ہے یہ بیماری
سرد سینہ لیے بیٹھا ہوں، ہوا کچھ بھی نہیں
محمد شاہ زیب
Muhammad Shahzaib

Comments
Post a Comment