DushmanHai , Aur Saath Rahe Jan Ki Tarah Mujh Mein Utar Gaya Hai Woh Sartan Ki Tarah
دُشمن ہے‘ اور ساتھ رہے جان کی طرح
مُجھ میں اُتر گیا ہے وُہ سرطان کی طرح
DushmanHai , Aur Saath Rahe Jan Ki Tarah
Mujh Mein Utar Gaya Hai Woh Sartan Ki Tarah
جکڑے ہُوئے ہے تن کو مِرے‘ اُس کی آرزو
پھیلا ہُوا ہے جال سا ، شریان کی طرح
دِیوار و دَر نے جس کے لیے ہجر کاٹے تھے
آیا تھا چند روز کو مہمان کی طرح
دُکھ کی رُتوں میں پیڑ نے تنہا سفر کِیا
پتّوں کو پہلے بھیج کے سامان کی طرح
گہرے خنک اندھیرے میں اُجلے تکلّفات
گھر کی فضا بھی ہوگئی شیزان کی طرح
ڈوبا ہُوا ہے حُسنِ سُخن میں سکوتِ شب
تارِ ربابِ رُوح میں کلیان کی طرح
آہنگ کے جمال میں انجیل کی دُعا
نرمی میں اپنی ”سورۂ رحمان“ کی طرح
(خوشبوؤں کی شاعرہ)
پروینؔ شاکر
Parveen Shakir

Comments
Post a Comment