Har Dard Ko Lafzon Mein Paroty Bhi Nahi Hein Hum Shair Sunaty Hoe Roty Bhi Nahi Hein
ہر درد کو لفظوں میں پروتے بھی نہیں ہیں
ہم شعر سناتے ہوئے روتے بھی نہیں ہیں
Har Dard Ko Lafzon Mein Paroty Bhi Nahi Hein
Hum Shair Sunaty Hoe Roty Bhi Nahi Hein
شاکی بھی ہیں قسمت سے کہ دامن رہا خالی
اور فصلِ وفا ٹھیک سے بوتے بھی نہیں ہیں
اچھا ہے مری یاد کو جھٹکا ہے کسی نے
آغوش میں ہر زخم سموتے بھی نہیں ہیں
کرتے ہیں مری ذات پہ وہ بیٹھ کے باتیں
جو لوگ مرے دھیان میں ہوتے بھی نہیں ہیں
جیسے ہو چراغوں کے قبیلے سے تعلق
ہم اہلِ جنوں رات کو سوتے بھی نہیں ہیں
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment