Hijar Ki Betabian Thein , Hasraton Ka Josh Tha Husn Ka Aaghosh Phir Bhi Husn Ka Aaghosh Tha
ہجر کی بیتابیاں تھیں، حسرتوں کا جوش تھا
حسن کا آغوش پھر بھی حسن کا آغوش تھا
Hijar Ki Betabian Thein , Hasraton Ka Josh Tha
Husn Ka Aaghosh Phir Bhi Husn Ka Aaghosh Tha
ہم تو جس محفل میں بیٹھے شغلِ ناؤ نوش تھا
زندگی میں موت بھی آئے گی، کس کو ہوش تھا
ضبط کرتے کرتے آخر پھوٹ نکلی دل کی بات
ہنس پڑا گلشن میں جو بھی غنچۂ خاموش تھا
احترامِ حسن کہیے یا اسے رعبِ جمال
ان کا پردے سے نکلنا تھا کہ میں بیہوش تھا
مجھ سے پوچھو سرگزشتِ میکدہ بادہ کشو
تھا کبھی میرا بھی عالم، میں بھی بادہ نوش تھا
لغزشیں میری مُسلم ابتدائے عشق میں
آپ کو بھی کچھ خبر تھی، آپ کو بھی ہوش تھا
عشق کا اعجاز تھا یہ _ عشق کی تاثیر بھی
دل سے جو نالہ نکلتا تھا، سکونِ گوش تھا
کوئی کیا سمجھا مری دیوانگی کو کیا خبر
آپ کی نظروں میں تھا، اتنا تو مجھ کو ہوش تھا
آج تسبیح و مصلیٰ لے کے عارفؔ بن گیا
کل جو روح میکدہ تھا، رند و بادہ نوش تھا
عارفؔ نقشبندی
Arif Naqshbandi

Comments
Post a Comment