Hont Khamosh Hoe , Dil Dhadakna Bhoola Hum Ko Ab Tak Na Bichadny Ka Woh Lamha Bhoola
ہونٹ خاموش ہوئے، دل کو دھڑکنا بھولا
ہم کو اب تک نہ بچھڑنے کا وہ لمحہ بھولا
Hont Khamosh Hoe , Dil Dhadakna Bhoola
Hum Ko Ab Tak Na Bichadny Ka Woh Lamha Bhoola
پھول خوشبو کے لبادے سے نکل کر بھاگے
تیرے ہنستے ہوئے کلیوں کو چٹخنا بھولا
آپ سے پوچھ لیا کون، تو ناراض نہ ہوں
ہم کو اپنا بھی کئی بار ہے چہرہ بھولا
نہ تجھے یاد کیا دل نے کبھی فرصت میں
نہ ترے ہجر میں دن رات تڑپنا بھولا
پھر چراغوں کو ہوا خوفزدہ کرنے لگی
پھر لویں چوم کے اک بھنورہ مچلنا بھولا
کیوں پرندوں کو نہ گھر یاد رہے ہجرت میں
کیوں سرِ دھوپ درختوں کو ہے سایہ بھولا
وہ ہوا دور تو پھر بال بنائے نہ گئے
اور تہواروں پہ میں کپڑے بدلنا بھولا
تم تو ہر بات پہ یک لخت بھڑک اٹھتے تھے
کیا ہوا کس لیے تم کو ہے بھڑکنا بھولا
جس کے ہر پیڑ پہ لکھا تھا محبت ہم نے
اب تو اس شہر کی گلیوں کا بھی نقشہ بھولا
ڈوبتے شخص کی فریاد نے بدلا منظر
اور بدن کھینچتی لہروں کو بھی ہنسنا بھولا
اس نے پاؤں سے جکڑ رکھا ہے طغیانی کو
ورنہ دریا نہیں ساحل سے الجھنا بھولا
یوں ترے نام کی تسبیح کا یہ فیض ملا
مجھ سا لکنت زدہ کم گو بھی اٹکنا بھولا
ایسے بھولا ہمیں جینے کا سلیقہ دانش
جیسے بھٹکے ہوئے لوگوں کو بھٹکنا بھولا
دانش عزیز
Danish Azeez

Comments
Post a Comment