Ik Dard Kuhan Aankh Se Dhoya Nahi Jata Jab Ranj Ziada Ho Tou Roya Nahi Jata
اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا
Ik Dard Kuhan Aankh Se Dhoya Nahi Jata
Jab Ranj Ziada Ho Tou Roya Nahi Jata
مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے
کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا
جلتے ہوئے کھلیان میں اگتی نہیں فصلیں
خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا
جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے
اور ایسی زبوں حالی میں رویا نہیں جاتا
تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا
سلگی ہیں مری آنکھ میں اک عمر کی نیندیں
آنگن میں لگے آگ تو سویا نہیں جاتا
یوں چھو کے در دل کو پلٹ آتا ہے واپس
اک وہم محبت کا کہ گویا نہیں جاتا
اب صوفیہ اس طرح سے دل پہ نہیں بنتی
اب اشکوں سے آنچل کو بھگویا نہیں جاتا
صوفیہ بیدار
Sofia Baidar

Comments
Post a Comment