Ik Tasawar Hai Jo Tasweer Bhi Ho Sakta Hai Ishq Tou Paoun Ki Zanjeer Bhi Ho Sakta Hai
اک تصور ہے جو تصویر بھی ہو سکتا ہے
عشق تو پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتا ہے
Ik Tasawar Hai Jo Tasweer Bhi Ho Sakta Hai
Ishq Tou Paoun Ki Zanjeer Bhi Ho Sakta Hai
میں ہی موجود تھا تنہا کسی پس منظر میں
ایسا منظر کہ جو تسخیر بھی ہو سکتا ہے
مرشدی، مجھ میں مرا عشق سلامت رکھنا
ہجر پھر باعث توقیر بھی ہو سکتا ہے
مجھ کو آزاد کرانے میں مددگار مرا
کوئی اک حلقۂ زنجیر بھی ہو سکتا ہے
میں نے دیکھا تجھے ہریالی کے پس منظر میں
تو مرے خواب کی تعبیر بھی ہو سکتا ہے
ہجر اور وصل کے دوران جو اک مدت ہے
یہ تیرا عرصۂ تدبیر بھی ہو سکتا ہے
یہ مرے سامنے پھیلا ہوا صحرائے سکوت
مجھ سے درویش کی جاگیر بھی ہو سکتا ہے
یاد رکھ دل ہے، اگر ٹوٹ گیا، ٹوٹ گیا
گھر نہیں پھر سے جو تعمیر بھی ہو سکتا ہے
ایسی پر سوز صدا ایسی شکستہ آواز
قافلے میں کوئی دلگیر بھی ہو سکتا ہے
ایک دن کنج تغافل سے نکل کر وہ شخص
آ کے پھر مجھ سے بغلگیر بھی ہو سکتا ہے
امان الله خان امان
Amanullah Khan Aman

Comments
Post a Comment