Jab Tuhmatein Woh Mujh Peh Lagane Peh Aa Gaya Main Bhi Usay Nazar Se Girane Peh Aa Gaya
جب تہمتیں وہ مجھ پہ لگانے پہ آ گیا
میں بھی اسے نظر سے گرانے پہ آ گیا
Jab Tuhmatein Woh Mujh Peh Lagane Peh Aa Gaya
Main Bhi Usay Nazar Se Girane Peh Aa Gaya
لہجہ بدل کے بات تو کرنا پڑی مگر
اس کا دماغ اپنے ٹھکانے پہ آ گیا
ان سر پھری ہواؤں کو ہو گی شکست فاش
میں گر چراغ اپنا جلانے پہ آ گیا
آواز جب نہ دب سکی میری کسی طرح
کم ظرف پھر وہ مجھ کو مٹانے پہ آ گیا
ان کی فنا تھا میرا ابھرتا ہوا وجود
میں اس لیے بھی سب کے نشانے پہ آ گیا
ہم کو مٹانے والے کبھی دیکھ آئینہ
تو خود تباہیوں کے دہانے پہ آ گیا
دشمن کو اپنے بے بس و مایوس دیکھ کر
میں خود ہی جا کے اس کے نشانے پہ آ گیا
اس نے فرازؔ جب کیا غیروں کا تذکرہ
پھر میں بھی اپنے شعر سنانے پہ آ گیا
جب تہمتیں وہ مجھ پہ لگانے پہ آ گیا
میں بھی اسے نظر سے گرانے پہ آ گیا
لہجہ بدل کے بات تو کرنا پڑی مگر
اس کا دماغ اپنے ٹھکانے پہ آ گیا
ان سر پھری ہواؤں کو ہوگی شکست فاش
میں گر چراغ اپنا جلانے پہ آ گیا
آواز جب نہ دب سکی میری کسی طرح
کم ظرف پھر وہ مجھ کو مٹانے پہ آ گیا
ان کی فنا تھا میرا ابھرتا ہوا وجود
میں اس لئے بھی سب کے نشانے پہ آ گیا
ہم کو مٹانے والے کبھی دیکھ آئنہ
تو خود تباہیوں کے دہانے پہ آ گیا
دشمن کو اپنے بے بس و مایوس دیکھ کر
میں خود ہی جا کے اس کے نشانے پہ آ گیا
اس نے فرازؔ جب کیا غیروں کا تذکرہ
پھر میں بھی اپنے شعر سنانے پہ آ گیا
فرازؔ حسن پوری
Faraz Hasanpuri

Comments
Post a Comment