Jahan Zad Neechay Galy Mein Tere Dar Ke Agy Yeh Main Sokhta Sar Husn Koozah Gar Hon





”حسن کوزہ گر''

“ پارٹ ١
نظم
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں

Jahan Zad Neechay Galy Mein Tere Dar Ke Agy

Yeh Main Sokhta Sar Husn Koozah Gar Hon

 
تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسف
کی دکان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی
تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں
جہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں
یہ وہ دور تھا جس میں میں نے
کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب
پلٹ کر نہ دیکھا
وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے
گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں
وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے
حسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟
وہ ہم سے خود اپنے عمل سے
خدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں
جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا
کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے
تغاروں میں مٹی
کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میں
سنگ بستہ پڑی تھی
صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں
مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارے
شکستہ پڑے تھے
میں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہ
سر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانو
کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے
گل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھا
جہاں زاد نو سال پہلے
تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی
کہ میں نے حسن کوزہ گر نے
تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں
میں دیکھی ہے وہ تابناکی
کہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کا
رہگزر بن گئے تھے
جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات
وہ رود دجلہ کا ساحل
وہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیں
کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے
ایک ہی رات وہ کہربا تھی
کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجود
اس کی جاں اس کا پیکر
مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا
حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے
جہاں زاد اس دور میں روز ہر روز
وہ سوختہ بخت آ کر
مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گل سر بہ زانو
تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی
(وہی چاک جو سال ہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)
وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی
حسن کوزہ گر ہوش میں آ
حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر
یہ بچوں کے تنور کیونکر بھریں گے
حسن اے محبت کے مارے
محبت امیروں کی بازی
حسن اپنے دیوار و در پر نظر کر
مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے
کسی ڈوبتے شخص کو زیر گرداب کوئی پکارے
وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں
مگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے ان
خرابوں کا مجذوب تھا جن
میں کوئی صدا کوئی جنبش
کسی مرغ پراں کا سایہ
کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا
جہاں زاد میں آج تیری گلی میں
یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں
ترے در کے آگے کھڑا ہوں
سر و مو پریشاں
دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیں
مجھے آج پھر جھانکتی ہیں
زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو
اور فانوس و گلداں
کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں
میں انساں ہوں لیکن
یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے
حسن کوزہ گر آج اک تودۂ خاک ہے جسم
میں نم کا اثر تک نہیں ہے
جہاں زاد بازار میں صبح عطار یوسف
کی دکان پر تیری آنکھیں
پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں
ان آنکھوں کی تابندہ شوخی
سے اٹھی ہے پھر تودۂ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش
یہی شاید اس خاک کو گل بنا دے
تمنا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن
تو چاہے تو بن جاؤں میں پھر
وہی کوزہ گر جس کے کوزے
تھے ہر کاخ و کو اور ہر شہر و قریہ کی نازش
تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں
تمنا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن
تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب
گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب
معیشت کے اظہار فن کے سہاروں کی جانب
کہ میں اس گل و لا سے اس رنگ و روغن
سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے
دلوں کے خرابے ہوں روشن
 شاعر:ن م راشد

پارٹ ٢


نشاط اس شب بے راہ روی کی
میں کہاں تک بھولوں؟
زور مے تھا کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی
کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا
تجھے حیرت نہ ہوئی
کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئی شیشوں پر
اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت
تجھے حیرت نہ ہوئی
اے جہاں زاد،
میں کوزوں کی طرف اپنے تغاروں کی طرف
اب جو بغداد سے لوٹا ہوں
تو میں سوچتا ہوں
سوچتا ہوں تو مرے سامنے آئینہ رہی
سر بازار دریچے میں سر بستر سنجاب کبھی
تو مرے سامنے آئینہ رہی
جس میں کچھ بھی نظر آیا نہ مجھے
اپنی ہی صورت کے سوا
اپنی تنہائی جانکاہ کی دہشت کے سوا
لکھ رہا ہوں تجھے خط
اور وہ آئینہ مرے ہاتھ میں ہے
اس میں کچھ بھی نظر آتا نہیں
اب ایک ہی صورت کے سوا
لکھ رہا ہوں تجھے خط
اور مجھے لکھنا بھی کہاں آتا ہے؟
لوح آئینہ پہ اشکوں کی پھواروں ہی سے
خط کیوں نہ لکھوں؟
اے جہاں زاد،
نشاط اس شب بے راہ روی کی
مجھے پھر لائے گی؟
وقت کیا چیز ہے تو جانتی ہے؟
وقت اک ایسا پتنگا ہے
جو دیواروں پہ آئینوں پہ
پیمانوں پہ شیشوں پہ
مرے جام و سبو میرے تغاروں پہ
سدا رینگتا ہے
رینگتے وقت کے مانند کبھی
لوٹ کے آئے گا حسن کوزہ گر سوختہ جاں بھی شاید!
اب جو لوٹا ہوں جہاں زاد
تو میں سوچتا ہوں
شاید اس جھونپڑے کی چھت پہ یہ مکڑی مری محرومی کی
جسے تنتی چلی جاتی ہے وہ جالا تو نہیں ہوں میں بھی؟
یہ سیہ جھونپڑا میں جس میں پڑا سوچتا ہوں
میرے افلاس کے روندے ہوئے اجداد کی
بس ایک نشانی ہے یہی
ان کے فن ان کی معیشت کی کہانی ہے یہی
میں جو لوٹا ہوں تو وہ سوختہ بخت
آ کے مجھے دیکھتی ہے
دیر تک دیکھتی رہ جاتی ہے
میرے اس جھونپڑے میں کچھ بھی نہیں
کھیل اک سادہ محبت کا
شب و روز کے اس بڑھتے ہوئے کھوکھلے پن میں جو کبھی کھیلتے ہیں
کبھی رو لیتے ہیں مل کر کبھی گا لیتے ہیں
اور مل کر کبھی ہنس لیتے ہیں
دل کے جینے کے بہانے کے سوا اور نہیں
حرف سرحد ہیں جہاں زاد معانی سرحد
عشق سرحد ہے جوانی سرحد
دل کے جینے کے بہانے کے سوا اور نہیں
درد محرومی کی
تنہائی کی سرحد بھی کہیں ہے کہ نہیں؟
میرے اس جھونپڑے میں
کتنی ہی خوشبوئیں ہیں
جو مرے گرد سدا رینگتی ہیں
اسی اک رات کی خوشبو کی طرح رینگتی ہیں
در و دیوار سے لپٹی ہوئی اس گرد کی خوشبو بھی ہے
میرے افلاس کی تنہائی کی
یادوں کی تمناؤں کی خوشبوئیں بھی
پھر بھی اس جھونپڑے میں کچھ بھی نہیں
یہ مرا جھونپڑا تاریک ہے گندہ ہے پراگندہ ہے
ہاں کبھی دور درختوں سے پرندوں کی صدا آتی ہے
کبھی انجیروں کے زیتونوں کے باغوں کی مہک آتی ہے
تو میں جی اٹھتا ہوں
تو میں کہتا ہوں کہ لو آج نہا کر نکلا
ورنہ اس گھر میں کوئی سیج نہیں عطر نہیں ہے
کوئی پنکھا بھی نہیں،
تجھے جس عشق کی خو ہے
مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں
تو ہنسے گی اے جہاں زاد عجب بات
کہ جذبات کا حاتم بھی میں
اور اشیا کا پرستار بھی میں
اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی میں
تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے
میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے
عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟
اے جہاں زاد
ہے ہر عشق سوال ایسا کہ عاشق کے سوا
اس کا نہیں کوئی جواب
یہی کافی ہے کہ باطن کی صدا گونج اٹھے
اے جہاں زاد
مرے گوشۂ باطن کی صدا ہی تھی
مرے فن کی ٹھٹھرتی ہوئی صدیوں
کے کنارے گونجی
تیری آنکھوں کے سمندر کا کنارا ہی تھا
صدیوں کا کنارا نکلا
یہ سمندر جو مری ذات کا آئینہ ہے
یہ سمندر جو مرے کوزوں کے بگڑے ہوئے
بنتے ہوئے سیماؤں کا آئینہ ہے
یہ سمندر جو ہر اک فن کا
ہر اک فن کے پرستار کا
آئینہ ہے


پارٹ ٣

وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت
جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے
محیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زن
تمام رات تیرتے رہے تھے ہم
ہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کے
تیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سے
کہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہے
ہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر کے خلاف
تیرتے رہے
تو کہہ اٹھی: 'حسن یہاں بھی کھینچ لائی
جاں کی تشنگی تجھے
(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میں
کہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوں
سے شاد کام ہوگیا)
مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہو
مرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیا
نہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیں
کہ اب بھی ربط جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھے
یہی وہ اعتبار تھا
کہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیا
میں سب سے پہلے 'اپ 'ہوں
اگر ہمیں ہوں تو ہو اور میں ہوں پھر بھی میں
ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!
اگر میں زندہ ہوں تو کیسے آپ سے دغا کروں؟
کہ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد،
ایسی الجھنیں ہیں
جن کو آج تک کوئی نہیں 'سلجھ' سکا
جو میں کہوں کہ میں 'سلجھ' سکا تو سر بسر
فریب اپنے آپ سے
کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پر
جواب جس کا ہم نہیں
(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکر
تیرے لب پہ تھا
وہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہا
لبوں کو نوچتا رہا
جو میں کبھی نہ کر سکا
نہیں یہ سچ ہے میں ہوں یا لبیب ہو
رقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاط ناب کا
جو صد نوا و یک نوا خرام صبح کی طرح
لبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)
مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھی
وجود آدمی سے آب و گل سدا بروں رہے
نہ ہر وصال آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکا
جو ان کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے
جہاں زاد،
ایک تو اور ایک وہ اور ایک میں
یہ تین زاویے کسی مثلث قدیم کے
ہمیشہ گھومتے رہے
کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا
مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکے
مثلث قدیم کو میں توڑ دوں، جو تو کہے، مگر نہیں
جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اس مثلث قدیم کا
نگاہیں میرے چاک کی جو مجھ کو دیکھتی ہیں
گھومتے ہوئے
سبو و جام پر ترا بدن ترا ہی رنگ تیری نازکی
برس پڑی
وہ کیمیا گری ترے جمال کی برس پڑی
میں سیل نور اندروں سے دھل گیا
مرے دروں کی خلق یوں گلی گلی نکل پڑی
کہ جیسے صبح کی اذاں سنائی دی
تمام کوزے بنتے بنتے 'تو' ہی بن کے رہ گئے
نشاط اس وصال رہ گزر کی نا گہاں مجھے نگل گئی
یہی پیالہ و صراحی و سبو کا مرحلہ ہے وہ
کہ جب خمیر آب و گل سے وہ جدا ہوئے
تو ان کو سمت راہ نو کی کامرانیاں ملیں
میں اک غریب کوزہ گر
یہ انتہائے معرفت
یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت
مجھے ہو اس کی کیا خبر؟
جہاں زاد
انتظار آج بھی مجھے ہے کیوں وہی مگر
جو نو برس کے دور نا سزا میں تھا؟
اب انتظار آنسوؤں کے دجلہ کا
نہ گمرہی کی رات کا
شب گنہ کی لذتوں کا اتنا ذکر کر چکا
وہ خود گناہ بن گئیں
حلب کی کارواں سرا کے حوض کا، نہ موت کا
نہ اپنی اس شکست خوردہ ذات کا
اک انتظار بے زماں کا تار ہے بندھا ہوا
کبھی جو چند ثانیے زمان بے زماں میں آ کے رک گئے
تو وقت کا یہ بار میرے سر سے بھی اتر گیا
تمام رفتہ و گزشتہ صورتوں، تمام حادثوں
کے سست قافلے
مرے دروں میں جاگ اٹھے
مرے دروں میں اک جہان باز یافتہ کی ریل پیل جاگ اٹھی
بہشت جیسے جاگ اٹھے خدا کے لا شعور میں
میں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہوا
غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو
مرے وجود سے بروں
تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے
میرے اپنے آپ سے فراق میں
وہ پھر سے ایک کل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)
وہ پھر سے ایک رقص بے زماں بنے
وہ رویت ازل بنے
ن۔م۔راشد


Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein

Kisi Bashar Mein Hazar Khami Agar Jo Dekho Tou Chup Hi Rehna