Jana Tou Buhat Door Hai Mehtab Se Aagy Barhty Hi Nahi Paoun Tere Khuwab Se Aagy
جانا تو بہت دور ہے مہتاب سے آگے
بڑھتے ہی نہیں پاؤں ترے خواب سے آگے
Jana Tou Buhat Door Hai Mehtab Se Aagy
Barhty Hi Nahi Paoun Tere Khuwab Se Aagy
کچھ اور حسیں موڑ تھے روداد سفر میں
لکھا نہ مگر کچھ بھی ترے باب سے آگے
تہذیب کی زنجیر سے الجھا رہا میں بھی
تو بھی نہ بڑھا جسم کے آداب سے آگے
موتی کے خزانے بھی تہہ آب چھپے تھے
نکلا نہ کوئی خطرۂ گرداب سے آگے
دیکھو تو کبھی دشت بھی آباد ہے کیسا
نکلو تو ذرا خطۂ شاداب سے آگے
بچھڑا تو نہیں کوئی تمہارا بھی سفر میں
کیوں بھاگے چلے جاتے ہو بیتاب سے آگے
دنیا کا چلن دیکھ کے لگتا تو یہی ہے
اب کچھ بھی نہیں عالم اسباب سے آگے
عالم خورشید
Aalam Khursheed

Comments
Post a Comment