Jinki Yadein Hein Abhi Dil Mein Nishani Ki Tarah Woh Humain Bhool Gaye Aik Kahani Ki Tarah
جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح
وہ ہمیں بھول گئے ایک کہانی کی طرح
Jinki Yadein Hein Abhi Dil Mein Nishani Ki Tarah
Woh Humain Bhool Gaye Aik Kahani Ki Tarah
دوستو ڈھونڈ کے ہم سا کوئی پیاسا لاؤ
ہم تو آنسو بھی جو پیتے ہیں تو پانی کی طرح
غم کو سینے میں چھپائے ہوئے رکھنا یارو
غم مہکتے ہیں بہت رات کی رانی کی طرح
تم ہمارے تھے، تمہیں یاد نہیں ہے شاید
دن گزرتے ہیں برستے ہوئے پانی کی طرح
آج جو لوگ ترے غم پہ ہنسے والے ہیں
کل تجھے یاد کریں گے وہی فانیؔ کی طرح

Comments
Post a Comment