Mahsoos Lams Jis Ka Sar Rahguzar Kia Saya Tha Woh Usi Ka Jise Humsafar Kia
محسوس لمس جس کا سر رہگزر کیا
سایہ تھا وہ اسی کا جسے ہمسفر کیا
Mahsoos Lams Jis Ka Sar Rahguzar Kia
Saya Tha Woh Usi Ka Jise Humsafar Kia
کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام
کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا
رہنا نہیں تھا ساتھ کسی کے مگر رہے
کرنا نہیں تھا یاد کسی کو مگر کیا
تو آئینہ بھی آپ تھا اور عکس بھی تھا آپ
تیرے جمال ہی نے تجھے خوش نظر کیا
وہ جس ڈگر ملے گا، وہیں مر مٹوں گا میں
تم دیکھنا سفر کا ارادہ اگر کیا
جب زندگی گزار دی، آیا ہے تب خیال
کیوں اس کا انتظار ظفرؔ عمر بھر کیا
صابر ظفرؔ
Sabir Zafar

Comments
Post a Comment