Raishmi Jazbat Ki Touheen Kar Ke Chal Diye Dil Ki Halat Aur Bhi Sangeen Kar Ke Chal Diye
ریشمی جذبات کی توہین کر کے چل دیئے
دل کی حالت اور بھی سنگین کر کے چل دیئے
Raishmi Jazbat Ki Touheen Kar Ke Chal Diye
Dil Ki Halat Aur Bhi Sangeen Kar Ke Chal Diye
آپ کے ہوتے ہوئے تھوڑی بہت امید تھی
آپ بھی تو صبر کی تلقین کرکے چل دیئے
چیخ سن کر آ گئے سو سو طرح کے سامعین
اپنے اپنے ذوق کی تسکین کر کے چل دیئے
جسم ڈولی میں بِنا پوچھے بتائے ڈال کر
سانس لیتی جان کی تدفین کر کے چل دیئے
دوسروں کا سرخ چہرہ دیکھ کر ہم لوگ بھی
تھپڑوں سے گال کو رنگین کر کے چل دیئے
یہ محبت جو سلیقے سے کوئی نہ کر سکا
ہم نے کی اور لائقِ تحسین کر کے چل دیئے
اُن کی قبریں تا ابد روشن رہیں ارض ِ وطن
جو تری آرائش و تزئین کر کے چل دیئے
ڈاکٹر احمد خلیل
Dr Ahmad Khalil

Comments
Post a Comment