Zid Hai Bari Yeh Shouq Na Farmayeye Janab Yeh Ishq Hai , Yeh Ishq Hai , Sanbhal Jayeye Janab
ضد ہے بری یہ شوق نہ فرمائیے جناب
یہ عشق ہے، یہ عشق، سنبھل جایئے جناب
Zid Hai Bari Yeh Shouq Na Farmayeye Janab
Yeh Ishq Hai , Yeh Ishq Hai , Sanbhal Jayeye Janab
بس میں ہے دل جو آپ کے تو معاملہ الگ
بس میں ہیں اگر آپ تو گھبرائیے جناب
جب عشق کر چکے ہیں تو بس عشق کیجیے
خود کو یہ صاف صاف تو بتلایئے جناب
ہے زہر کا پیالہ کبھی تختہ ِ دار ہے
خنجر کبھی شہ رگ پہ تو لہرائیے جناب
غالب نے کہا عشق کو، ایک آگ کا دریا
جل جایئے یا ڈوب کے مر جائیے جناب
شاید ہو برا وقت کسی نیک ہاتھ میں
بیجا نا کسی کو تو آزمائیے جناب
ہو گا ستم برائے ستم تو جہان میں
ہم درگزر کریں گے، یہاں آئیے جناب
ہر کوئی چمکتا ہوا تارہ نہیں ہوتا
بیکار میں ذروں کو نہ چمکائیے جناب
کچھ بھی دیار ِ عشق میں چلتا نہیں حضور
داؤ پہ اگر دل ہے تو لگائیے جناب
ہاتھوں سے اپنے باب ِ عنایت کو جلایا
اب جایئے در در کو کھٹکھٹائیے جناب
خاکی مرید عشق ہیں اور خود میں ملنگ ہیں
ہم مست ہیں، ہم پر نہ ترس کھائیے جناب

Comments
Post a Comment