Aankhon Mein Aa Gaye Tou Chupaye Nahi Gaye Danista Tum Ko Zakham Dekhaye Nahi Gaye
آنکھوں میں آ گئے تو چھپائے نہیں گئے
دانستہ تم کو زخم دکھائے نہیں گئے
Aankhon Mein Aa Gaye Tou Chupaye Nahi Gaye
Danista Tum Ko Zakham Dekhaye Nahi Gaye
تاریکیوں کے شہر میں حاجت کے باوجود
ہم وہ چراغ ہیں جو جلائے نہیں گئے
شہرِ ستمگراں میں جفاؤں کی مانگ تھی
ہم سے وفا کے سکے چلائے نہیں گئے
اکثر تو دل میں دفن ہیں ماضی کی تلخیاں
دو چار داغ ہیں جو مٹائے نہیں گئے
ہم کو تمام عمر بتایا گیا کچھ اور
جو پوچھتے تھے ہم، وہ بتائے نہیں گئے
جو کچھ تھا پاس سارے کا سارا لگا دیا
کچھ لوگ پھر بھی ہم سے کمائے نہیں گئے
بچھڑے تھے جو اجل کے سمندر میں ڈوب کر
یوں یاد بن کے ابھرے بھلائے نہیں گئے
ہم بھاگ دوڑ کر کے زمانے سے آملے
حالانکہ اس کے واسطے لائے نہیں گئے

Comments
Post a Comment