Aos Ke Shabnami Tabassum Par Hum Ne Lekhi Shab Tanhaai Hai
اوس کے شبنمی تبسم پر
ہم نے لکھی شب تنہائی ہے
Aos Ke Shabnami Tabassum Par
Hum Ne Lekhi Shab Tanhaai Hai
میرے ہاتھوں میں ہنر ہے تیرا
میرا دل شوق کا سودائی ہے
برف پر پھیلے ہوئے رنگوں سے
شام آنچل میں سمٹ آئی ہے
آسماں نیند سے جاگا جیسے
شب ہجراں کہیں مسکائی ہے
دور تک پھیلی ہوئی وادی میں
یک نفس خواب سی تنہائی ہے
اور اس نیند کے جنگل میں کہیں
دبے پاؤں تری یاد آئی ہے
شائستہ مفتی
Shaista Mufti

Comments
Post a Comment