Badan Ki Sarzameen Par Tou Hukamran Aur Hai Magar Jo Dil Mein Bas Raha Hai Meharban Aur Hai
بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
مگر جو دل میں بس رہا ہے مہربان اور ہے
Badan Ki Sarzameen Par Tou Hukamran Aur Hai
Magar Jo Dil Mein Bas Raha Hai Meharban Aur Hai
جو مُجھ سے منسلک ہُوئیں کہانیاں کُچھ اور تھیں
جو دِل کو پیش آئی ہے وہ داستان اور ہے
یہ مرحلہ تو سہل تھا محبتوں میں وصل کا
ابھی تمہیں خبر نہیں کہ امتحان اور ہے
وہ دن کدھر گئے مِرے وہ رات کیا ہوئی مِری
یہ سرزمین نہیں ہے وہ یہ آسمان اور ہے
وہ جس کو دیکھتے ہو تم ضرورتوں کی بات ہے
جو شاعری میں ہے کہیں وہ خُوش بیان اور ہے
جو سائے کی طرح سے ہے وہ سایہ دار بھی تو ہے
مگر ہمیں ملا ہے جو وہ سائبان اور ہے
نوشی گیلانی
Noshi Gailani

Comments
Post a Comment