Bujhe Labon Peh Tabassum Ke Gul Sajata Hoa Mehik Utha Hon Main Tujh Ko Ghazal Mein Lata Hoa
بجھے لبوں پہ تبسم کے گل سجاتا ہوا
مہک اٹھا ہوں میں تجھ کو غزل میں لاتا ہوا
Bujhe Labon Peh Tabassum Ke Gul Sajata Hoa
Mehik Utha Hon Main Tujh Ko Ghazal Mein Lata Hoa
اجاڑ دشت سے یہ کون آج گزرا ہے
گئی رتوں کی وہی خوشبوئیں لٹاتا ہوا
تمہارے ہاتھوں سے چھٹ کر نجانے کب سے میں
بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں ٹمٹماتا ہوا
نگل نہ جائے کہیں بے رخی مجھے تیری
کہ رو پڑا ہوں میں اب کے تجھے ہنساتا ہوا
تو شاہزادی مہکتے ہوئے اجالوں کی
میں ایک خواب اندھیروں کی چوٹ کھاتا ہوا
مرا بدن، یہ کسی برف کے بدن سا ہے
پگھل نہ جاؤں میں تجھ کو گلے لگاتا ہوا
تمہاری آنکھوں کا پانی کہیں نہ بن جاؤں
میں ڈر رہا ہوں بہت داستاں سناتا ہوا
آلوک مشرا
Aalok Mishra

Comments
Post a Comment