Dil Ke Nagar Mein Rehty Hein Guzre Haseen Lamhe Woh Zeest Thi Jin Mein Zinda Tab Aise Mubeen Lamhe Woh
دل کے نگر مِیں رہتے ہیں گزرے حَسین لمحے وہ
زیست تھی جن میں زندہ تب ,ایسے مُبین لمحے وہ
Dil Ke Nagar Mein Rehty Hein Guzre Haseen Lamhe Woh
Zeest Thi Jin Mein Zinda Tab Aise Mubeen Lamhe Woh
درد نے جب بھی گھیرا تو بن کے سہارا اچھے پل
ہنسنے ہنسانے لگتے ہیں , بیتے مُعین لمحے وہ
چُھو کے ابھی تو گزرا ہے لمس ترا جو ہاتھوں کو
مجھ کو لگا گماں نہیں , سب تھے یقین لمحے وہ
آنچ سے فلسَفے کی جب , زیست کو پرکھا کرتے تھے
سوچ سمجھ کے گزرے تھے , کتنے ذہین لمحے وہ
ایسے بھی دن گُزارے جب , سرد لگے تھے جذبے سب
زندہ رہی مَیں اُن مِیں کب ؟ بس تھے مَشین لمحے وہ
یاد نگر مِیں رہتے ہیں , زیست کے ایسے حصّے بھی
بیت گئے ہیں سارے جو , دل سے قَرین لمحے وہ
نقش سبیلؔہ اب بھی ہیں , پیار مِیں گزرے سارے پل
مثل ِخُلوص زندہ ہیں , کتنے اَمین لمحے وہ
سؔبیلہ انعام صدیقی
Sabeelah Inam Siddique

Comments
Post a Comment