Firaq Yaar Ke Lamhe Guzar Hi Jaeingy Chaday Hoe Hein Jo Darya , Utar Hi Jaeingy
فراق یار کے لمحے گزر ہی جائیں گے
چڑھے ہوئے ہیں جو دریا، اتر ہی جائیں گے
Firaq Yaar Ke Lamhe Guzar Hi Jaeingy
Chaday Hoe Hein Jo Darya , Utar Hi Jaeingy
تمام رات در میکدہ پہ کاٹی ہے
سحر قریب ہے، اب اپنے گھر ہی جائیں گے
تو میرے حال پریشاں کا کچھ خیال نہ کر
جو زخم تو نے لگائے ہیں، بھر ہی جائیں گے
میان دار و شبستان یار بیٹھے ہیں
جدھر اشارۂ دل ہو، ادھر ہی جائیں گے
جلوس ناز کبھی تو ادھر سے گزرے گا
کبھی تو دل کے مقدر سنور ہی جائیں گے
یہی رہے گا جو انداز نا شناسائی
تمہارے چاہنے والے تو مر ہی جائیں گے
ابھی چھڑی بھی نہ تھی داستان عہد وفا
کسے خبر تھی کہ وہ یوں مکر ہی جائیں گے
جمال یار کی نادیدہ خلوتوں میں ظہیرؔ
اگر گئے تو یہ آشفتہ سر ہی جائیں گے
ظہیرؔ کاشمیری
Zaheer Kashmiri

Comments
Post a Comment