Geet Hon Tou Ga Mujhe , Gham Hon Tou Utha Mujhe Hasil e Murad Hon Aise Mat Ganwa Mujhe
گیت ہُوں تو گا مجھے، غم ہُوں گر اُٹھا مجھے
حاصلِ مُراد ہُوں ایسے مت گنوا مجھے
Geet Hon Tou Ga Mujhe , Gham Hon Tou Utha Mujhe
Hasil e Murad Hon Aise Mat Ganwa Mujhe
کل تیری نگاہ میں نُور کا الاؤ تھی
آج مثلِ خاک ہُوں، راکھ ہُوں بہا مجھے
عشق تھا طلب تیری، تجھ کو میں عطا ہُوئی
ایک دُعا کے نام پر قید کر لیا مجھے
ڈُوب اپنے حال میں، کچھ نہیں مَلال میں
دھیان سے ہٹا مجھے شان سے گِرا مجھے
تیرے ہاتھ کا لِکھا حرفِ ناتمام ہُوں
چاہے تُو تمام کر خواہ تُو مِٹا مجھے
حَدِ شوق سے پرے خواب پھیلتا گیا
اُس کے پار اَنت تک اِک خلا دِکھا مجھے
عشق لِکھ کے یار نے میرے نم خمیر پر
نقش نقش پڑھ لِیا اور دَھر دیا مجھے
حسن جس کے پیر سے گرد بن لِپٹ رہا
ایک زرد شب میرے دُوار پر مِلا مجھے
مینہہ برس برس گیا دِل سے خار و خس گیا
عشق سے بھی رَس گیا، دے نہ اب صَدا مجھے
روشنی سَراب ہے، رنگ کُل عذاب ہے
جی بہت خراب ہے، شعر مت سُنا مجھے
تُو میرا خُدا نہ تھا کوئی دیوتا نہ تھا
جانے تیرا حَرف حَرف حُکم کیوں لگا مجھے
جب حقیقتیں کُھلیں یاد کچھ رہا نہیں
اے سنہری چَشم، تُو کون ہے بتا مجھے
تُو نہیں رہا مگر ریگزارِ دِل پہ کیوں
دم بَدم مِلا کیے تیرے نقشِ پا مجھے
سیماب ظفر
Seemab Zafar

Comments
Post a Comment