Hairat Hai Sar e Dar Jo Masloob Raha Hai Us Shakhs Ka Har Dav Buhat Khoob Raha Hai
حیرت ہے سرِ دار جو مصلوب رہا ہے
اس شخص کا ہر داؤ بہت خوب رہا ہے
Hairat Hai Sar e Dar Jo Masloob Raha Hai
Us Shakhs Ka Har Dav Buhat Khoob Raha Hai
آج اس کی خموشی پہ نہ تم انگلی اٹھاؤ
سنتے ہیں کہ وہ صاحبِ اسلوب رہا ہے
اب وقت نے سب نقش بگاڑے ہیں وگرنہ
یہ شہر مرے حُسن سے مرعوب رہا ہے
اے چھوڑے ہوئے شخص مجھے دکھ ہے کہ تجھ سا
کم ظرف مرے نام سے منسوب رہا ہے
ہے اور کوئی کارِ اذیت تو بتاؤ
کیا ہے کہ مرا عشق سے جی اوب رہا ہے
اترا ہے ترے ہجر کا سیلاب رگوں میں
دل آج کراچی کی طرح ڈوب رہا ہے
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment