Jo Kisi Aik Par Nahi Rukty Woh Kahein Umar Bhar Nahi Rukty
جو کسی ایک پر نہیں رکتے
وہ کہیں عمر بھر نہیں رکتے
Jo Kisi Aik Par Nahi Rukty
Woh Kahein Umar Bhar Nahi Rukty
تیرے کہنے پہ زندگی، یہ لوگ
رک تو جائیں مگر نہیں رکتے
جن کو وحشت ستاۓ رکھتی ہو
شام کے وقت گھر نہیں رکتے
آگے بڑھ کر بھی روک لینا تھا
میرے کہنے پہ گر نہیں رکتے
جن کو منزل کی چاہ ہوتی ہے
پھر وہ شام و سحر نہیں رکتے
سانس رک جاتی ہے کِرن لیکن
زندگی کے سفر نہیں رکتے
اسماء کِرن
Asma Kiran

Comments
Post a Comment