Kahein Sehra Kahein Sokhay Shajar Achay Nahi Lagtay Mujhe Ab Khuwab Zaron Ke Safar Achay Nahi Lagtay
کہیں صحرا کہیں سُوکھے شجر اچھے نہیں لگتے
مجھے اب خواب زاروں کے سفر اچھے نہیں لگتے
Kahein Sehra Kahein Sokhay Shajar Achay Nahi Lagtay
Mujhe Ab Khuwab Zaron Ke Safar Achay Nahi Lagtay
جوابی خط میں یوں اُس نے میرے بارے میں لکھا تھا
بُرا بھی کہہ نہیں سکتے مگر اچھے نہیں لگتے
نہیں مصرف میں اتنا کہ گھر کا راستہ بُھولوں
کوئی جب منتظر نہ ہو تو گھر اچھے نہیں لگتے
سمندر تیرتی لاشوں سے یہ کہتا رہا شب بھر
مُجھے بھی ڈوبنے والو، بھنور اچھے نہیں لگتے
نہیں ایسا بھی کہ پرواز کی طاقت نہیں باقی
میری اُمید کے پنچھی کو پر اچھے نہیں لگتے
محمد بابر زمان
Muhammad Babar Zaman

Comments
Post a Comment