Kuch Aise Dhang Se Roya Keh Muatbar Bhi Laga Woh Aik Shakhs Magar Mubtalaye Shar Bhi Laga
کچھ ایسے ڈھنگ سے رویا کہ معتبر بھی لگا
وہ ایک شخص مگر مبتلائے شَر بھی لگا
Kuch Aise Dhang Se Roya Keh Muatbar Bhi Laga
Woh Aik Shakhs Magar Mubtalaye Shar Bhi Laga
کبھی کبھار پرندوں سے آپ بیتی کہی
کبھی کبھار مجھے دشت اپنا گھر بھی لگا
میں اتنی تنگ جگہ سے گزر کے آیا ہوں
گھِسے ہیں پاؤں بھی اور آسماں پہ سر بھی لگا
ہمارے جسم کو نوچو تمام جانب سے
ادھر لگا چکا ہے زخم؟ اب ادھر بھی لگا
بنائے بیٹھا ہوں کاغذ پہ ایک فرضی مکان
اور اپنے آپ سے کہتا ہوں اس میں در بھی لگا
کسی کے ساتھ محبت کی بات کرتے ہوئے
ذرا سا خوش بھی ہوئے، ٹھیک ٹھاک ڈر بھی لگا
اداس میں بھی تھا اور اس پہ مستزاد تھا یہ
خفا خفا سا اداسی بھرا سفر بھی لگا
ہماری سمت سے آزاد ہے سو اپنا دل
کسی کو سونپ، کہیں پھینک یا جدھر بھی لگا
فیضان احمد فیضی
Faizan Ahmad Faizi

Comments
Post a Comment