Lejiye Hum Se Bakamal Log Bhi Aam Ho Gaye Jin Se Gurez Tha Humain , Hum Se Woh Kam Ho Gaye
لیجیے ہم سے با کمال لوگ بھی عام ہو گئے
جن سے گریز تھا ہمیں، ہم سے وہ کام ہو گئے
Lejiye Hum Se Bakamal Log Bhi Aam Ho Gaye
Jin Se Gurez Tha Humain , Hum Se Woh Kam Ho Gaye
آپ کی بد دعائے دل آخر اثر دکھا گئی
ہم کو بھی عشق ہو گیا، ہم بھی غلام ہو گئے
چادر احتیاط آج سر سے ہوا جو لے اڑی
زلف کے سارے پیچ و خم منظر عام ہو گئے
باغ بدن میں ہر طرف کلیاں چٹک چٹک گئیں
باد صبا چلی تو ہم خوشبو خرام ہو گئے
آپ سے آپ چھٹ گئے ابر گھنیر ہجر کے
ہم بھی شب سیاہ سے ماہ تمام ہو گئے
معجزہ یہ نہیں تو کیا، نظریں ملیں، نہ بات کی
پھر بھی سلام ہو گئے، پھر بھی پیام ہو گئے
یہ کار عشق کا سفر ایسے علیناؔ طے ہوا
دل ان کا ہم نے رکھ لیا، خود ان کے نام ہو گئے
علیناؔ عترت
Aleena Itrat

Comments
Post a Comment