Mere Sawal Ka Koi Jawab Hai Hi Nahi Aur Is Peh Koi Mujhe Izterab Hai Hi Nahi
مرے سوال کا کوئی جواب ہے ہی نہیں
اور اس پہ کوئی مجھے اضطراب ہے ہی نہیں
Mere Sawal Ka Koi Jawab Hai Hi Nahi
Aur Is Peh Koi Mujhe Izterab Hai Hi Nahi
یہ زندگی ہے کہ چبھتی ہوئی مسافت ہے
کہ پاؤں ننگے ہیں اور اجتناب ہے ہی نہیں
جو اس کے قرب میں جائے گا، جان جائے گا
کہ لمسِ ناز سے بہتر سراب ہے ہی نہیں
وہ چاہتا ہے مجھے ٹوٹتا ہوا دیکھے
اگر چہ مجھ میں بکھرنے کا باب ہے ہی نہیں
جسے بھی دیکھو، دعا دے رہا ہے جینے کی
وہ زندگی جو مرا انتخاب ہے ہی نہیں
حضور آپ کے کہنے پہ مان لیتے ہیں
ہمی خراب ہیں، دنیا خراب ہے ہی نہیں
کسی کو تا بہ ابد پوجتے رہے ہم لوگ
یہ جانتے ہوئے اس کا ثواب ہے ہی نہیں
وہ بے بسی ہے کہ میرے علاوہ اب ناسف
کوئی بھی شخص مجھے دستیاب ہے ہی نہیں
خبیب ناسف
Khubaib Naasief

Comments
Post a Comment