Munsif Ho Qabeely Ke , Khatakar Ko Pakdo Insaf Jo Karna Hai Tou Sardar Ko Pakdo
منصف ہو قبیلے کے ، خطا کار کو پکڑو
انصاف جو کرنا ہے تو سردار کو پکڑو
Munsif Ho Qabeely Ke , Khatakar Ko Pakdo
Insaf Jo Karna Hai Tou Sardar Ko Pakdo
دیوار کو تھامو گے تو گرنے سے بچے گی
یہ کس نے کہا سایہ ء دیوار کو پکڑو
کیوں تم نے لگا رکھا ہے دو طرفہ تماشا
یا تخت کے ہو جاؤ یا پھر دار کو پکڑو
محسوس جو کرنی ہو کبھی لمس کی لذت
تو ہاتھ بڑھا کر کسی بیمار کو پکڑو
کھل جائے گی تم پر بھی لکھاری کی حقیقت
بس اس کے لکھے ادنٰی سے کردار کو پکڑو
للکار سنو اب تو ذرا کوئے بتاں کی
اب حیدرِ کرار کی تلوار کو پکڑو
اغیار کی تقلید میں رسوا ہی رہو گے
اسلاف کے چھوڑے ہوئے افکار کو پکڑو
جاویدجدون
Javed Jadoon

Comments
Post a Comment