Roop Nagar Ki Sundarta Mein Aik Damakta Baab Hoi Raat Gaye Tak Parhne Wali Larki Aap Kitab Hoi
رُوپ نگر کی سُنـــــدرتا میں ایک دمکتا باب ہوئی
رات گئے تک پڑھنے والی لڑکی آپ کتـــــاب ہوئی
Roop Nagar Ki Sundarta Mein Aik Damakta Baab Hoi
Raat Gaye Tak Parhne Wali Larki Aap Kitab Hoi
جانے کیسے درد چھپے تھے اس کی اُلجھی فکروں میں
سب سے ہنس کر ملنے والی پیلا زرد گلاب ہوئی
سب کو روشن کرنے والا خود کیوں بھجتا دیپ ہوا ؟
سب میں آنکھیں بونے والی بینائی بے خواب ہوئی
بڑھتے بڑھتے آج اذیت سانسوں کا مضراب بنی
گھٹتے گھٹتے دیکھ محبت دیوانے کا خواب ہوئی
کیا میں ہجر کے شکوے کرتی، اپنے زخم دکھاتی جب
ایک ذرا سے شکوے پر وہ چشم کرم خونناب ہوئی
اک بار میں اس کے سینے پر سر رکھ کر سوئی جاگی تھی
وہ بنجر دھرتی پھر مجھ کو ،مرا سوہنا سبز پنجاب ہوئی
مرے دھوپ سے اجلے آنچل پر جو کالک تم نے پھینکی تھی
وہ رب کی خاص عنایت سے، مرے ماتھے پہ محراب ہوئی ۔
اس شخص کی آمد کا سن کر مرے سارے دردہوئےعنقا
وہ چاپ سنی دروازے پر ، مری بے چینی سیماب ہوئی
جس ماتھے کو بوسہ دے کر روشن سورج اُگتا تھا
اس کے پیر بھگو کر ایماں ہر اک موج چناب ہوئی۔
ڈاکٹر ایمان قیصرانی
Dr Eman Qaisrani

Comments
Post a Comment