Teri Khushbo Tera Lehja Main Kahan Se Laoun Tu Bata Dy Tere Jaisa Main Kahan Se Laoun
تیری خوشبو تیرا لہجہ میں کہاں سے لاؤں
تو بتا دے تیرے جیسا میں کہاں سے لاؤں
Teri Khushbo Tera Lehja Main Kahan Se Laoun
Tu Bata Dy Tere Jaisa Main Kahan Se Laoun
چاند کو گھیر کے رکھتے ہیں ستارے ہر شب
پھر بھلا چاند کو تنہا میں کہاں سے لاؤں
چشم تر میں بھی رہے اور بھرم بھی رکھ لے
ایسا ٹھہرا ہوا دریا میں کہاں سے لاؤں
اس کی خواہش ہے تعلق کا کوئی نام نہ ہو
ایسا بے نام سا رشتہ میں کہاں سے لاؤں
جذب کر لے مجھے خود میں جو سما لے مجھ کو
خشکیوں میں وہ جزیرہ میں کہاں سے لاؤں
کھینچ لائے جو گناہوں کے سمندر سے مجھے
اک ندامت کا وہ قطرہ میں کہاں سے لاؤں
مینا خان
Meena Khan

Comments
Post a Comment