Tooty Hoe Hein Woh Jo Rawabit , Bahal Kar Gar Ho Saky Tou Yaar Kabhi Mujh Ko Call Kar
ٹوٹے ہوئے ہیں وہ جو روابط، بحال کر
گر ہو سکے تو یار کبھی مجھ کو کال کر
Tooty Hoe Hein Woh Jo Rawabit , Bahal Kar
Gar Ho Saky Tou Yaar Kabhi Mujh Ko Call Kar
زندہ ہے تیرے حُسن کا وہ لمس آج تک
رکھی ہے تیرے جسم کی خوشبو سنبھال کر
یہ آستیں نہیں ہے مرا گھر ہے دوستو
رکھے ہوئے ہیں میں نے کئی سانپ پال کر
کہتا تھا دل کے شہر میں تیرا ہی راج ہے
بیٹھے ہیں غیر دیکھ لے مجھ کو نکال کر
تُو محوِ رقص ہو کے کبھی وجد میں تو آ
کھل کر کبھی تو جسم کے اندر دھمال کر
ملتا ہے پیار یا کہ مجھے ہجر دوستو
آ دیکھتے ہیں وصل کا سکہ اچھال کر
دامن بچا رہے ہیں یہاں مستقل جواب
اور تُویہ کہہ رہا ہے کہ کوئی سوال کر
جو سامنے ہے اس سے زرا ہنس کے بات کر
جو جا چکا ہے چھوڑ کر اس کا ملال کر
اب آنسوؤں کا قرض بہت ہو چکا ادا
اک بار مسکرا کے مجھے مالا مال کر
تیرے بغیر اور کسی کو جو دیکھ لیں
شہزاد پھینک دوں گا میں آنکھیں نکال کر
ڈاکٹر فیصل شہزاد
Dr Faisal Shehzad

Comments
Post a Comment