Tumhara Zikar Kahein Jab Bhi Aany Lagta Hai Naya Khayal Koi Sar Uthane Lagta Hai
تمھارا ذکر کہیں جب بھی آنے لگتا ہے
نیا خیال کوئی سر اٹھانے لگتا ہے
Tumhara Zikar Kahein Jab Bhi Aany Lagta Hai
Naya Khayal Koi Sar Uthane Lagta Hai
میں پچھلی بات کو دہرانے بیٹھ جاتی ہوں
نئی وہ بات کوئی جب بتانے لگتا ہے
تمام رات مرا دل لبھاتا رہتا ہے
جو خواب دن چڑھے مجھ کو ڈرانے لگتا ہے
گزر چکا ہوا ہوتا ہے وہ بہت پہلے
نیا وہ واقعہ جب بھی سنانے لگتا ہے
میں آئینے میں جھلک اس کی ڈھونڈتی ہوں مگر
خیال اس کا تو آنکھیں دکھانے لگتا ہے
میں اپنی نقل مکانی کو یاد کرتی ہوں
کوئی بھی چھوڑ کے جب شہر جانے لگتا ہے
میں روشنی کے جزیرے پہ رہ کے آئی ہوں
بجھا دیا بھی مرا دل جلانے لگتا ہے
وہ میری سمت لپکتا ہوا ہیولا کوئی
تمھاری یاد کا منظر چرانے لگتا ہے
بدن میں درد کو دیکھو کبھی بلکتا ہوا
یہ کاٹ کاٹ کے جب ماس کھانے لگتا ہے
تمام رنگ مرے ساتھ رقص کرتے ہیں
مری غزل کو وہ جب گنگنانے لگتا ہے
کبھی کبھی تو سحر لفظ روٹھ جاتے ہیں
قلم لکیریں عجب سی بنانے لگتا ہے
یاسمین سحر
Yasmeen Sahar

Comments
Post a Comment