Woh Mere Dost Hein Dildar Nahi Hone Ke Dasht Tou Dasht Hein Gulzar Nahi Hone Ke
وہ مرے دوست ہیں دلدار نہیں ہونے کے
دشت تو دشت ہیں گلزار نہیں ہونے کے
Woh Mere Dost Hein Dildar Nahi Hone Ke
Dasht Tou Dasht Hein Gulzar Nahi Hone Ke
اب نباہیں گے کہاں تک وہ تعلّق ہم سے
غیر تو غیر ہیں وہ یار نہیں ہونے کے
وہ کہ ہر روز ہی تجدید وفا کرتے ہیں
ہم کسی طور بھی بیزار نہیں ہونے کے
ڈوبتے شخص کو تنکے کا سہارا ہے بہت
وہ مرے واسطے پتوار نہیں ہونے کے
بجلیوں نے تو نشیمن پہ نگاہ ڈالی ہے
روشنی دیکھ کر بیدار نہیں ہونے کے
یوں تو پڑھتے ہیں ترنّم سے غزل محفل میں
وہ تو شاعر ہیں گلوکار نہیں ہونے کے
وہ ابھی تک ہیں زمانے کی نظر میں معصوم
کچھ بھی کرلو کبھی عیار نہیں ہونے کے
میں نے سمجھا تھا کسی طور منالوں گا مگر
وہ مری بات پہ تیّار نہیں ہونے کے
میں نے شاہدٓ بہت اخلاص سے چاہا ہے انہیں
پھول تو پھول ہیں وہ خار نہیں ہونے کے
ہارون شاہدٓ
Haroon Shahid

Comments
Post a Comment