Dua e Wasal Humain Yaad Thodi Hoti Hai Kisi Ke Samne Faryad Thodi Hoti Hai
دعائے وصل ہمیں یاد تھوڑی ہوتی ہے
کسی کے سامنے فریاد تھوڑی ہوتی ہے
Dua e Wasal Humain Yaad Thodi Hoti Hai
Kisi Ke Samne Faryad Thodi Hoti Hai
تمام عمر رہیں گے یونہی اذّیت میں
یہاں پہ ہجر کی معیاد تھوڑی ہوتی ہے
ہمارے ہاتھ کو چومو، گلے لگاؤ ہمیں
یہ واہ واہ کوئی داد تھوڑی ہوتی ہے
تمہارا عشق پنپتا ہے میرے سینے میں
زمیں کے بیچ ہی بنیاد تھوڑی ہوتی ہے
ہم اُس کے واسطے لاتے ہیں قیمتی گہنے
وہ پھول دیکھ کے ہی شاد تھوڑی ہوتی ہے
ہمارے خواب بھی ہوتے ہیں منتشر آثمؔ
ہماری نیند ہی برباد تھوڑی ہوتی ہے
رمزی آثمؔ
Ramzi Aasim

Comments
Post a Comment