Jab Se Daikha Pari Jamalon Ko Mout See Aa Gai Khayalon Ko
جب سے دیکھا پری جمالوں کو
موت سی آ گئی خیالوں کو
Jab Se Daikha Pari Jamalon Ko
Mout See Aa Gai Khayalon Ko
دیکھ‘ تشنہ لبی کی بات نہ کر
آگ لگ جائے گی ‘ پیالوں کو
پھر اُفق سے کسی نے دیکھا ہے
مُسکرا کر خراب حالوں کو
فیض پہنچا ہے بارہا ساقی
تیرے مستوں سے اِن شوالوں کو
دونوں عالم پہ سرفرازی کا
ناز ہے تیرے پائمالوں کو
اِس اندھیروں کے عہد میں ساغرؔ
کیا کرے گا کوئی اُجالوں کو
ساغرؔ صدیقی
Saghar Siddiqui

Comments
Post a Comment