Meri Zindagi Bhi Meri Nahi Yah Hazar Khanon Mein Bat Gai
میری زندگی بھی میری نہیں
یہ ھزار خانوں میں بٹ گئی
Meri Zindagi Bhi Meri Nahi
Yah Hazar Khanon Mein Bat Gai
مجھے ایک مُٹھی زمین دے
یہ زمین کتنی سمٹ گئی۔
تیری یاد آئے تو چُپ رھُوں
ذرا چُپ رھُوں تو غزل کہوں
یہ عَجیب آگ کی بیل تھی
میرے تن بَدن سے لپٹ گئی۔
مُجھے لِکھنے والا لِکھے بھی کیا
مُجھے پڑھنے والا پڑھے بھی کیا
جہاں میرا نام لِکھا گیا
وھیں رَوشنائی اُلٹ گئی۔
نہ کوئی خُوشی نہ مَلال ھے
کہ سبھی کا ایک سا حال ھے
تیرے سُکھ کے دِن بھی گُزر گئے
میری غَم کی رات بھی کٹ گئی۔
میری بند پلکوں پر ٹُوٹ کر
کوئی پُھول رات بکھر گیا
مُجھے سِسکیوں نے جگا دیا
میری کَچی نیند اُچٹ گئی۔
ڈاکٹر بَشیر بَدر
Dr Bashir Badar

Comments
Post a Comment