Rah e Dushwar Ki Jo Dhool Nahi Ho Sakty Unke Haathon Mein Kabhi Phool Nahi Ho Sakty
راہِ دُشوار کی جو دُھول نہیں ہو سکتے
اُن کے ہاتھوں میں کبھی پُھول نہیں ہو سکتے
Rah e Dushwar Ki Jo Dhool Nahi Ho Sakty
Unke Haathon Mein Kabhi Phool Nahi Ho Sakty
تیرے معیار پہ پُورے نہ اُترنے والے
منصبِ عشق سے معزُول نہیں ہو سکتے
اِتنا خُوں ہے مِرا گُلشن میں کہ اب میرے خلاف
پیڑ ہو جائیں مگر پُھول نہیں ہو سکتے
حاکمِ شہر کے اطراف وہ پہرہ ہے کہ اب
شہر کے دُکھ اُسے موصُول نہیں ہو سکتے
خُون پینے کو یہاں کوئی بلا آتی ہے
قتل تو روز کا معمُول نہیں ہو سکتے
جُنبشِ ابروئے شاہاں نہ سمجھنے والے
کِسی دَربار میں مقبُول نہیں ہو سکتے
پروین شاکر
Parveen Shakir

Comments
Post a Comment