Siah Raat Ne Jhoti Yeh Baat Phailayi Chiragh Banjh Hoe , Jugnoun Ko Mout Aayi
سیاہ رات نے جھوٹی یہ بات پھیلائی
چراغ بانجھ ہوئے، جگنوؤں کو موت آئی
Siah Raat Ne Jhoti Yeh Baat Phailayi
Chiragh Banjh Hoe , Jugnoun Ko Mout Aayi
یہ کس نے زرد رو پیشانیوں پہ لمس دھرا
کہ ڈھلتی آس نے لی پھر دلوں میں انگڑائی
جمالیات کا سب سے حسین مظہر ہیں
تمھاری دلنشیں آنکھیں، لبوں کی رعنائی
سہارا ہونا ہے خود ہی کو اپنا آخرکار
مجھے یہ بات سہاروں نے مل کے سمجھائی
میں سایہ دار درختوں سے ملنے پہنچا تو
کڑکتی دھوپ وہاں اپنی منتظر پائی
قضا نے کاٹ دی اس وقت خواب کی شہ رگ
میں جب بڑھانے لگا نیند سے شناسائی

Comments
Post a Comment