Tere Masoom Sawalat Se Dar Lagta Hai Zindagi Teri Inayaat Se Dar Lagta Hai
تیرے معصوم سوالات سے ڈر لگتا ہے
زندگی تیری عنایات سے ڈر لگتا ہے
Tere Masoom Sawalat Se Dar Lagta Hai
Zindagi Teri Inayaat Se Dar Lagta Hai
پہلے حالات بدلنے کی بڑی حسرت تھی
اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے
غیر پھر غیر ہیں جیسا بھی رویہ برتیں
اب تو اپنوں کی مدارات سے ڈر لگتا ہے
میرے اندر ہے مرا کوئی مخالف شاید
مجھ کو اپنی ہی کسی بات سے ڈر لگتا ہے
خواب سے، درد سے، احساس سے، تنہائی سے
عشق کی ساری خرافات سے ڈر لگتا ہے
یوں نہیں ہے کہ چراغوں میں کوئی بات نہیں
بات یوں ہے کہ انہیں رات سے ڈر لگتا ہے
احمد خلیل خان
Ahmad Khalil Khan

Comments
Post a Comment