Tujh Se Mansoob Rahon Teri Kahi Jaoun Piya Teri Nisbat Se Lekhi Aur Parhi Jaoun Piya
تجھ سے منسوب رہوں تیری کہی جاؤں پیا
تری نسبت سے لکھی اور پڑھی جاؤں پیا
Tujh Se Mansoob Rahon Teri Kahi Jaoun Piya
Teri Nisbat Se Lekhi Aur Parhi Jaoun Piya
جھومتی پھرتی ہواؤں کی طرح سے میں بھی
چوم کر لمس ترا مست ہوئی جاؤں پیا
ترے احساس سے لپٹی رہوں خوشبو کی طرح
رات کی رانی بنوں اور کھلی جاؤں پیا
تری آہٹ کا سماعت میں کوئی در جو کھلے
میں اسی در میں دیا بن کے جلی جاؤں پیا
ڈال دوں آب ستم گر میں کہیں کچا گھڑا
در کسریٰ میں کہیں زندہ چنی جاؤں پیا
رات کے پچھلے پہر وجد کے عالم میں کہیں
میں تری روح میں تحلیل ہوئی جاؤں پیا
پھر ترے عشق میں خوشبو کا بدن پہنے ہوئے
تری چوکھٹ پہ اگر بن کے جلی جاؤں پیا
جب کہیں کوئی فقیروں میں کرے ذکر مرا
میں ترے در کے فقیروں میں گنی جاؤں پیا
مرے حجرے میں تری چاپ کے جب پھول کھلیں
آپ ہی آپ چراغوں میں ڈھلی جاؤں پیا
ہو اگر دفن مرے ساتھ ترا نقش قدم
رقص کرتی سوئے مقتل بہ خوشی جاؤں پیا
بن کے درگاہوں پہ میں ہجر کے ماروں کی دعا
درد کے چمپئی دھاگوں میں بندھی جاؤں پیا
جب ترے نقش قدم پر میں جھکی جاؤں پیا
آسمانوں میں اڑوں اڑتی چلی جاؤں پیا
دیکھ لے اس میں سراسر تری بدنامی ہے
کہ ترے در سے اٹھوں اور تہی جاؤں پیا
جینا قریشی
Jeena Qureshi

Comments
Post a Comment