Zabt Honton Peh Aa Gaya Tou Phir Tera Sab Housla Gaya Tou Phir
ضبط ہونٹوں پہ آ گیا تو پھر
تیرا سب حوصلہ گیا تو پھر
Zabt Honton Peh Aa Gaya Tou Phir
Tera Sab Housla Gaya Tou Phir
سال ہا سال کا اکیلا پن
تجھ کو اندر سے کھا گیا تو پھر
وہ جو تعبیر بن کے آیا ہے
خواب سارے جلا گیا تو پھر
جھیل آنکھیں سراہنے والا
ان کو دریا بنا گیا تو پھر
اپنے سب لفظ دے دیے اُس کو
اب وہی بولتا گیا تو پھر
اُس کے لہجے کا رنگ اگر ناہیدؔ
تیرے لہجے پہ چھا گیا تو پھر
ناہیدؔ ورک
Naheed Virk

Comments
Post a Comment