Aata Bhi Kaise Main Teri Talash Se Aakhir Mujhe Guzarna Pada Apni Laash Se
آتا بھی کیسے باز مَیں تیری تلاش سے
آخر مجھے گُزرنا پڑا اپنی لاش سے
Aata Bhi Kaise Main Teri Talash Se
Aakhir Mujhe Guzarna Pada Apni Laash Se
یہ خامشی، صدائے مُسلسل سے کم نہیں
اندازہ ہو رہا ہے گلے کی خراش سے
دروازے کھول کھول کے کہتا ہے، جان چھوڑ
تنگ آ چُکا مکان مِری بود و باش سے
مِل ہی گیا ہے کارگہِ غم میں روزگار
آزاد ہو گیا ہوں مَیں فکرِ معاش سے
یہ دُکھ بھی ہے کہ بُھولتا جاتا ہوں اپنی اصل
اچھّا تو لگ رہا ہوں تراش و خراش سے
دولخت کر گیا ہے مجھے تکیۂ کلام
کاش آشنا نہ ہوتی زباں لفظ کاش سے
اب یُوں ہی پتّے پھینٹتا رہتا ہوں عادتاً
جی اُوب سا گیا ہے زمانے کی تاش سے
سعید شارقؔ
Saeed Shariq

Comments
Post a Comment