AUR TUM YAAD AA GAYE PHIR SE



اور تم یاد آ گئے پھر سے
AUR TUM YAAD AA GAYE PHIR SE

ایک جنگل بھری اداسی کا
میں نے کل رات خواب میں دیکھا
اور تم یاد آ گئے پھر سے

میں نے دیکھا تھا درد پتوں پر
جیسے پت جھڑ کا سوگ کرتے ہوں
اور تم یاد آ گئے پھر سے

ایک اندھے مزار کے اندر
ہجر کو دفن کر دیا میں نے
اور تم یاد آ گئے پھر سے

روگ ہنسنے لگے اداسی پر
درد نے تالیاں بجا ڈالیں
اور تم یاد آ گئے پھر سے

اک پرندہ جو ڈار سے بچھڑا
میری چھت پر اداس بیٹھا تھا
اور تم یاد آ گئے پھر سے

اب تو ہر بات بھول جاتا ہوں
اب تو کچھ یاد ہی نہیں رہتا
اور تم یاد آ گئے پھر سے

اب تمہیں یاد ہی نہیں کرنا
آج یہ فیصلہ کیا ہم نے
اور تم یاد آ گئے پھر سے


Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai