Dhuwan Jo Daikha Tou Main Ne Bhi Rasta Badla Lagi Hai Aag Tou Phir Ghar Bhi Jal Gaya Ho Ga
دھواں جو دیکھا تو میں نے بھی راستہ بدلا
لگی ہے آگ تو پھر گھر بھی جل گیا ہو گا
Dhuwan Jo Daikha Tou Main Ne Bhi Rasta Badla
Lagi Hai Aag Tou Phir Ghar Bhi Jal Gaya Ho Ga
یہ میرا دل تو کسی کام کا نہیں تھا مگر
میں خوش ہوا ہوں ترا کام چل گیا ہو گا
مجھے بھی اس کی وہ پہلی طلب نہیں ہوتی
اور اس کا حسنِ مجسم بھی ڈھل گیا ہو گا
میں کیا بتاؤں کہ خوابوں کا کیا ہوا مرے دوست
یہ اژدہائے محبت نگل گیا ہو گا
وہ پھول ٹانک کے بالوں میں آج آئی ہے
کسی کے ہاتھ سے تو پارسل گیا ہو گا
اب آ کے تُو ذرا محتاط ہے سفر سے مگر
کسی کے ساتھ تُو پہلے پہل گیا ہو گا
برس گزر گئے کتنے وہ شہر دیکھے ہوئے
اب اس گلی کا بھی نقشہ بدل گیا ہو گا
وہ دل کہ جس کو تمھارے قریب رہنا تھا
تمھاری یاد سے کتنا بہل گیا ہو گا؟
وہ ایک شخص کہ جو ساتھ ساتھ رہتا تھا
نہ ڈھونڈ اس کو وہ رستہ بدل گیا ہو گا
بدن سے میرے یہ اٹھتا دھواں بتاتا ہے
تمھاری یاد کا شعلہ مچل گیا ہو گا
تو پوچھتا ہے کہ وہ شخص جانے کیسا ہو
ترے فراق کے سانچے میں ڈھل گیا ہو گا
میں سست رو تھا سو پیچھے ہی رہ گیا اے دوست
وہ تیز گام تھا آگے نکل گیا ہو گا
وہ جا چکا ہے تو میں نے تلاش بھی نہیں کی
مجھے پتہ ہے وہ کتنا بدل گیا ہو گا
وہ ایک جسم جو آتش فشاں سے کم نہیں تھا
اسے تو جس نے چھوا وہ تو جل گیا ہو گا
پڑی ہیں راہ میں پھولوں کی پتیاں فیصل
ہوس کا مارا کوئی گُل مسل گیا ہو گا
فیصل رشید
Faisal Rasheed

Comments
Post a Comment